9 اگست 2026 - 17:21
ایران کی بحری ناکہ بندی توڑنے والی 30 سے زائد کشتیاں؛ امریکی سینٹ کام کا اعتراف

امریکی سینٹ کام نے آبنائے ہرمز میں ایران کی بحری ناکہ بندی کی صورتحال سے متعلق اپنے تازہ بیان میں اعتراف کیا ہے کہ 8 اگست تک 30 سے زائد تجارتی بحری جہاز امریکی ناکہ بندی سے گزر چکے ہیں۔ امریکی فوج نے درجنوں دیگر جہازوں کا رخ موڑنے اور بعض جہازوں کو روکنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے گزشتہ شب جاری کیے گئے بیان میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ایران کی بحری ناکہ بندی سے متعلق اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ 30 سے زائد بحری جہاز ناکہ بندی عبور کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

سینٹ کام کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 8 اگست تک امریکی فوج نے 53 تجارتی بحری جہازوں کا رخ تبدیل کیا، دو بحری جہازوں کو ناکارہ بنایا اور مزید دو جہازوں کو قبضے میں لیا۔

امریکی فوج نے ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ اس نے انسانی امداد کی فراہمی کے لیے 30 سے زائد بحری جہازوں کو ناکہ بندی عبور کرنے کی اجازت دی۔

سینٹ کام نے اپنے بیان کے ساتھ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ’’ابراہام لنکن‘‘ کے عرشے پر جاری مرمت اور دیکھ بھال کی تصاویر بھی جاری کیں اور دعویٰ کیا کہ یہ جہاز ایران کے خلاف ناکہ بندی کی کارروائی کے لیے مشن انجام دینے کو تیار ہے۔

یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اس سے قبل امریکی میڈیا نے ابراہام لنکن کی ایران مخالف کارروائی کے لیے تیاری اور اس پر تعینات اہلکاروں کی صورتحال کے حوالے سے مشکلات کی رپورٹ دی تھی۔

اس طیارہ بردار بحری جہاز پر تعینات بعض امریکی فوجیوں کے اہل خانہ نے امریکی ٹی وی نیٹ ورک ’’ایم ایس این بی سی‘‘ کو بتایا کہ مشن کے اختتام اور امریکہ واپسی کے لیے کوئی واضح مدت مقرر نہ ہونے کے باعث ان کے اہل خانہ شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق جہاز کو بعض غذائی اشیا اور بنیادی ضروریات کی فراہمی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب سینٹ کام کی جانب سے بحری جہازوں کو ’’انسانی امداد‘‘ کی بنیاد پر گزرنے کی اجازت دینے کا دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی ذرائع ابلاغ، بالخصوص نیویارک ٹائمز، ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکی حملوں میں اسکولوں، کھیلوں کے مراکز، پلوں اور پانی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کی رپورٹس شائع کرچکے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha